History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu Jun 2026

یہ مضمون تاریخِ پاکستان (1857-1947) کے طالب علموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں برطانوی راج کے آغاز سے لے کر قیامِ پاکستان تک کے تمام اہم موڑ، سیاسی تحریکیں اور شخصیات شامل ہیں۔ 1۔ جنگِ آزادی 1857ء اور اس کے اثرات

This public link is valid for 7 days and shares a thread, including any personal information you added. This link or copies made by others cannot be deleted. If you share with third parties, their policies apply. Can’t copy the link right now. Try again later.

برصغیر کا نظامِ حکومت براہِ راست ملکہ برطانیہ کے ہاتھ میں چلا گیا۔

پہلی بار کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں مسلمانوں کے لیے "جداگانہ انتخاب" کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ یہ قائد اعظم کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھا۔

علامہ اقبال نے اپنے مشہور خطبے میں پہلی بار شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ ریاست کا واضح تصور پیش کیا۔

ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی تاکہ مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد ترکی کی خلافت کو بچانے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے یہ تحریک شروع کی۔ اس نے مسلمانوں میں سیاسی بیداری اور عوامی جدوجہد کا جذبہ پیدا کیا۔

— کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان پہلا سیاسی معاہدہ جس میں کانگریس نے مسلمانوں کے جداگانہ انتخاب کے حق کو تسلیم کیا۔ 1919-1924: تحریکِ خلافت

ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی صدارت میں کل ہند مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور انگریز حکومت کے سامنے مطالبات رکھنا تھا۔

۱۹۳۵ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت انتخابات ہوئے۔ کانگریس نے اکثریت حاصل کی اور وزارتیں بنائیں۔

سر سید نے مسلمانوں کو کانگریس کی سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مغربی طرز کی جمہوریت میں ہندو اکثریت مسلمانوں پر غالب آ جائے گی۔ انہوں نے "دو قومی نظریہ" کی بنیاد رکھی۔

انگریزوں نے مسلمانوں کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہوا اور وہ تعلیمی و معاشی طور پر پسماندگی کا شکار ہو گئے۔

  • wechat